اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورت کے مطابق کیپ تاؤن کے انجلیکن چرچ Anglican Church کے سربراہ کی رہائشگاہ پر مختلف ادیان و مذاہب کے 100 نمائندوں نے جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما Jacob Zuma سے ملاقات کی ہے.
اس ملاقات میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کے نمائندوں سمیت تمام عیسائی فرقوں، یہودی فرقوں، مختلف ہندو گروہوں اور روایتی افریقی فرقوں کے نمائندوں نے شرکت کی.
جیکب زوما نے علماء اور دینی و مذہبی راہنماؤں کے اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امن و امان اور استحکام کے قیام میں دینی راہنماؤں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ان راہنماؤں اور حکومت اور سیاستدانوں کے درمیان قریبی تعلق کے قیام پر زور دیا.
انھوں نے حکومت پر دینی راہنماؤں کی تنقید اور جمہوریت کے اصولوں کی پاسداری کو اہم قرار دیا اور کہا: دینی راہنما معاشرے اور خاندانی ڈھانچے میں اخلاقی زوال کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں بہت اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں.
اس تقریب میں جنوبی افریقہ کے اہل البیت (ع) فاؤنڈیشن کے سربراہ «سيد آفتاب حيدر رضوي» نے جنوبی افریقہ کے پیروان اہل بیت (ع) کے نمائندے کی حیثیت سے اس ملک کے شیعیان اہل بیت (ع) کی مجموعی صورت حال کی رپورٹ پیش کی.
انہوں نے کہا: افریقہ میں جمہوریت کے طلوع کے بعد، مقامی اہل تشیع سمیت پڑوسی ممالک سے ہجرت کرکے آنے والے شیعیان اہل بیت (ع) نے قانون کا پاس رکھنے والے شہریوں کی حیثیت سے آزادی اور جمہوریت کی نشو و نما کے لئے انتھک محنت کی ہے چنانچہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مذہب اہل بیت (ع) کو جنوبی افریقہ میں سرکاری طور پر تسلیم کیا جائے اور اس ملک کی ریلیجن کونسل میں اہل تشیع کو نمائندگی دی جائے.
سيد آفتاب حيدر رضوي نے صدر جنوبی افریقہ سے شکوہ کیا کہ اس کے باوجود کہ اہل البیت (ع) فاؤنڈیشن اس ملک میں رہنے والے شیعیان اہل بیت (ع) کی حقیقی نمائندہ ہے، حکومت نے حج و عمرہ کونسل میں ہماری رکنیت کی درخواست پر ابھی تک غور نہیں کیا اور یہ درخواست ابھی تک قبول نہیں ہوئی ہے.